حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گھوڑوال، فیض آباد، اتر پردیش میں حجۃ الاسلام و المسلمین سید شمس الحسن المعروف طالب رضا نے خطبۂ جمعہ میں موت اور آخرت کی یاد کو اسلامی زندگی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔
قرآن مجید اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات انسان کو دنیا کی محبت میں غافل ہونے کے بجائے نیک اعمال، توبہ اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موت انسانی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک دوسرے مرحلے کا آغاز ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: «کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ» یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ سورۂ آل عمران کی یہ آیت کسی ایک فرد یا قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک اٹل حقیقت بیان کرتی ہے۔ دنیا میں انسان کو جتنی بھی مہلت ملی ہے وہ محدود ہے اور آخرکار اسے اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
مولانا طالب رضا نے کہا کہ انسان اکثر دنیاوی زندگی کو مستقل سمجھ کر آخرت کو فراموش کردیتا ہے، حالانکہ قرآن مجید دنیاوی زندگی کو دھوکے کا سامان قرار دیتا ہے۔ اس لیے عقلمند انسان کو وقتاً فوقتاً اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ اس نے کیا کمایا، کس کے حقوق ادا کیے، کس پر ظلم کیا اور کن گناہوں سے ابھی توبہ کرنا باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں موت کو یاد رکھنے اور موت آنے سے پہلے نیک اعمال کی تیاری کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ موت کا وقت کسی انسان کو معلوم نہیں، اس لیے توبہ اور نیک اعمال کو مستقبل پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔

حجۃ الاسلام و المسلمین سید شمس الحسن نے سورۂ زمر کی آیت 42 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہی موت کے وقت انسانوں کی جانیں قبض کرتا ہے اور نیند کی حالت میں بھی انسان کی روح کے بارے میں اسی کا اختیار ہے۔ لہٰذا یہ سوچ کر توبہ کو مؤخر کرنا کہ ابھی بہت وقت باقی ہے، انسان کے لیے بڑی غفلت ہے۔
انہوں نے امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی نصیحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو موت کو بار بار یاد کرنا چاہیے اور دنیا کی ظاہری چمک دمک سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ انسان آخرت کی طرف جانے والا مسافر ہے اور موت اس کی طرف بڑھ رہی ہے، اس لیے موت آنے سے پہلے نیک اعمال کا ذخیرہ تیار کرلینا چاہیے۔
مولانا طالب رضا نے واضح کیا کہ موت کی یاد انسان کو مایوس کرنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی کو صحیح سمت دینے کے لیے ہے۔ جب انسان کو یقین ہوتا ہے کہ ایک دن اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو وہ نماز کی پابندی کرتا ہے، لوگوں کے حقوق ادا کرتا ہے، والدین کا احترام کرتا ہے، ضرورت مندوں کی مدد کرتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کے مطابق حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان جہنم سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔ دنیا کی کامیابی عارضی ہے، جبکہ آخرت کی کامیابی دائمی ہے، اس لیے مومن کو اپنی ترجیحات طے کرتے وقت آخرت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مولانا سید شمس الحسن المعروف طالب رضا نے کہا کہ ہمیں روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اور موت کو یاد رکھتے ہوئے توبہ، نماز، صدقہ، صلہ رحمی، رشتہ داروں کے حقوق اور بندگانِ خدا کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت ہمیں یہی تعلیم دیتی ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے اپنی آخرت کی تیاری کرے۔ لہٰذا موت کو دور کی چیز سمجھ کر غفلت میں رہنے کے بجائے آج ہی اپنے پروردگار سے تعلق مضبوط کرنا چاہیے، کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے، لیکن اس کے لیے ہماری تیاری کیسی ہوگی، اس کا انحصار ہمارے آج کے اعمال پر ہے۔










آپ کا تبصرہ